Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اپریل » گناہ تعریف،اقسام اور اس کے اثرات

گناہ تعریف،اقسام اور اس کے اثرات

معزز قارئین کرام! اللہ رب العزت نے انسانوں کی تخلیق کامقصد اپنی عبادت وفرمانبرداری قرار دیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:
[وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۝۵۶] (ذاریات:۵۶)
یعنی میں نے انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کیلئے پیداکیاہے۔
البتہ کائنات پر گزرنے والے ادوار کے ساتھ ساتھ انسانوں کی تقسیم ہمارے سامنے آتی ہے،جس کاذکراللہ رب العزت کے اس ارشاد میں ہے:
[فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ۝۰ۭ ](التغابن:۲)
تم میں سے بعض کافر اور بعض مومن ہیں۔
جنہوں نے اپنے نفس کو اللہ کا تابعدار بنایا وہ مومن ہیں اور جنہوں نے اپنےنفس کی اتباع کی اور اس کو اپنامعبود بنالیا وہ گناہ اور نافرمانی کے رستے پر چل نکلے۔
گناہ کی تعریف:
گناہوں کو عربی میں معاصی کہتےہیں اور معاصی’’عصیان‘‘ سے نکلا ہوالفظ ہےجس کی معانی ہیں :’’وھو ترک الطاعۃ ‘‘یعنی فرمانبرداری نہ کرنا۔
ترک المأمورات وفعل المخطورات ،أو ترک ما اوجب اللہ ورسولہ.(اللسان)
یعنی: ہر وہ کام کرنا جس سے روکا گیاہو، اور ہر وہ کام چھوڑ دینا جس کاحکم دیاگیاہو۔
اس معنی میں اللہ رب العزت کا یہ ارشاد گرامی ہے:
[وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًا۝۲۳ۭ ](الجن:۲۳)
(اب) جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے ۔
شرعی نصوص میں معصیت کے لئے دیگر الفاظ کا بھی استعمال ہوا ہے،الذنب، والخطئیۃ، والسیئۃ، والاثم، والفسوق، والفساد، وغیرھا
گناہ کی اقسام:
شرعیت کے نصوص سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ معاصی(گناہ) کی 2اقسام ہیں:1کبیرہ2صغیرہ
جیسا کہ اللہ رب العزت کا ارشادگرامی ہے:
[اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَـيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا۝۳۱ ](النساء:۳۱)
اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے اور عزت وبزرگی کی جگہ داخل کریں گے
کبیرہ گناہ وہ ہیں کہ جس پر کوئی حدمقرر کی گئی ہو یا اس پر عذاب، لعنت،سزا،آگ کی وعید کی گئی۔
اورصغیرہ گناہ وہ جو کبائر کے علاوہ ہوں۔
صغیرہ گناہوں کاکفارہ اعمال صالحہ ہیں، البتہ صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنا یا لاپرواہی سےکام لینا بھی کبیرہ گناہوں میں شمار کیاجاتاہے، جیسا کہ ابن عباس wکا قول ہے:
لاکبیرۃ مع الاستغفار ولاصغیرۃ مع الإصرار.
(فتح الباری،رواہ ابن جریر فی تفسیرہ وابن ابی حاتم فی تفسیرہ وصححہ محمد بن عمرو بن عبداللطیف)
استغفار کے بعد کبیرہ گناہ باقی نہیں رہتا، اور اصرار(باربارکرنا) کے ساتھ صغیرہ گناہ، صغیرہ نہیں رہتا۔(بلکہ کبیرہ بن جاتاہے)
البتہ کبیرہ گناہ کے مرتکب کے بارہ میں اہل السنۃ والجماعۃ کا موقف ہےکہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنےو الاملتِ اسلامیہ سے خارج ہے نہ ایمان سے،اور سانس چلتے تک اس کی سچی توبہ اس کے گناہِ کبیرہ کا کفارہ ہوسکتی ہے، اور موت کے بعد اس کا معاملہ اللہ رب العزت کی مشیت کے تحت ہے۔وہ چاہے تو اسے معاف کردے چاہے عذاب دے۔
البتہ کوئی بھی اہل اسلام کتناہی گناہ گار ہو ہمیشگی کی بنیاد پر جہنم میں نہیں ڈالاجائیگا۔
گناہ کے اثرات:
ابن قیمaاپنی کتاب’’الفوائد‘‘ میں لکھتے ہیں کہ سال ایک درخت کی مانند ہے اور مہینے اس کی فروعات ہیں اور دن اس کی شاخیں ہیں اور گھنٹے اس کے پتوں کی مانند ہیں، اور سانسیں پھل کی مانند ہیں، پس جو لوگ اپنی سانسوں کو اللہ رب العزت کی اطاعت میں خرچ کرتے ہیں وہ اس درخت سے عمدہ اور میٹھا پھل کھاتےہیں اور جولوگ اللہ رب العزت کی معصیت میں اپنی سانسوں کو صرف کرتےہیں وہ لوگ برا پھل کھاتے ہیں۔گناہون کے مختلف اثرات (نقصانات) اور نحوستوں کی شکل میں ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی پر ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ رب العزت کاارشاد گرامی ہے:
[ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ ] (الروم:۴۱)
یعنی: لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث ہی خشکی اور تری میں فساد پھیلتاہے۔
بلکہ حیوانات اور جمادات بھی ابنِ آدم کے کیے ہوئے گناہوں کا اثر محسوس کرتے ہیں۔
علماء کرام نے قرآن کی آیات اور احادیثِ رسول ﷺ کے مطالعے کے بعد مختلف اثرات کی تعیین کی ہے جو درج ذیل ہیں:
انفرادی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات:
1حرمان العلم: یعنی علم سےمحرومی گناہوں کا سب سے زیادہ نقصاندہ اور قبیح اثرہے، علم سے محرومی کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں،مثلاً: علم سے دوری پیداہوجانا، یاحافظے کی کمزوری ۔
اللہ رب العزت کاارشاد ہے :
[وَاتَّقُوا اللہَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللہُ ](البقرہ:۲۸۲)
یعنی اللہ سے ڈرو اللہ تمہیں علم دیگا۔
اس آیت کامفہوم مخالف یہ ہے کہ جو اللہ رب العزت سے نہیں ڈرتا اللہ اس شخص کو علم بھی نہیں دیتا۔ہمارے اسلاف کا اس تعلق سے بڑا ہی اہم منہج رہا ہے جیسا کہ ابن مسعودtکا قول ہے:
انی لاحسب ان الرجل ینسی العلم قد علمہ بالذنب یعملہ.(کتاب العلم لابی خیثمۃ)
یعنی:آدمی گناہ کرنے کی وجہ سے اپناحاصل کردہ علم بھول جاتاہے۔
امام شافعیaفرماتے ہیں:
میں نےا پنے استاذ وکیع الجراح سے اپنے کمزور حافظے کی شکایت کی تو انہوں نے مجھے گناہوں کوچھوڑنے کامشورہ دیا اور کہا کہ علم ایک نور ہے جو گناہگار بندے کوحاصل نہیں ہوسکتا۔(الجامع لأخلاق الراوی وآداب السامع ،للخطیب بغدادیa)
اسی طرح امام مالکa نے امام شافعیa سے کہا تھا :
اے محمد!میں تمہارا دینی علم میں مقام دیکھتاہوںپس تم خاص طور پر گناہوں سے بچتے رہنا، یہ گناہ علم کو تلف کردینے والے ہوتے ہیں۔
اللہ رب العزت نے ڈانٹ والاانداز اپناتے ہوئے بنی اسرائیل کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
[وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِہٖ۝۰](المائدۃ:۱۳)
جس چیز کی ان کونصیحت کی گئی اس کابہت سارا حصہ بھول گئے۔
دورِ قریب کے محدث علامہ محمد بن صالح العثیمین کا قول بھی موجود ہے :
طھر قلبہ من المعاصی کان افہم للقرآن وان من تنجس بالمعاصی کا ن ابعد فہما للقرآن .(القول المفید)
جس کا دل گناہوں سے پاک ہو قرآن سمجھنا اس کیلئے آسان ہو اور جس کا دل گناہوں میں لتھڑا ہوا ہو وہ قرآن کو سمجھنے سے بھی بعید(قاصر) ہے۔
ہمارے معاشرے میں علمی انحطاط کی ایک بڑی وجہ بڑھتے ہوئے گناہ ہیں، یہاں رُک کر میں اپنے آپ اور اپنے تمام طلباء کرام کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اس پہلو پرغورکریں۔
2رزق سے محرومی:رزق سےمحرومی گناہوں کے اثرات میں سے ایک اہم اثر ہے، اور رزق سے محرومی کی 2صورتیں ہیں:
(الف) اصلاً مال کا ہی تلف ہوجانا(ب) مال سے برکت کااُٹھ جانا۔
اللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے:
[وَلَوْ اَنَّ اَہْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْہِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰہُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۝۹۶ ](الاعراف:۹۶)
ترجمہ:اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا ۔
مسنداحمد میں سیدنا ثوبانtسے مروی ایک روایت موجود ہے ، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
ان العبد لیحرم الرزق بالذنب یصیبہ.
کہ بندہ گناہوں کی وجہ سے اس رزق سے محروم ہوجاتا ہے جو اس کو ملناہوتاہے۔
اسی طرح اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
[وَلَوْ اَنَّہُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىۃَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْہِمْ مِّنْ رَّبِّہِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ۝۰ۭ….](المائدۃ:۶۶)
ترجمہ:اور اگر یہ لوگ تورات وانجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے، ان کے پورے پابند رہتے تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے…
یعنی انہوں نے منزل من اللہ کو نافذ نہیں کیا اور اس کے پابند نہیں ہوئے تو اللہ رب العزت نے ان کے رزق کو ان پر تنگ کردیا۔
ابن عباسwکا قول ہے:
ان لسیئۃ سوادا فی الوجہ وظلمۃ فی القلب ووھنا فی البدن ونقصا فی الرزق.(مدارج السالکین)
گناہوں کے اثرات انسان کے چہرے پر سیاہی کی صورت ابھرتےہیں، اور دل پر اندھیرے کی صورت میں اور جسم پر کمزوری کی صورت میں اور رزق میںکمی کی صورت میں نمایاں ہوتے ہیں۔
اللہ رب العزت کاارشاد گرامی ہے:
[….وَمَنْ يَّـتَّقِ اللہَ يَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا۝۲ۙ وَّيَرْزُقْہُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۝۰ۭ](الطلاق:۲.۳)
ترجمہ:اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے ۔اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو ۔
(جاری ہے)

About حافظ مغیث الرحمٰن

Check Also

گناہ تعریف،اقسام اور اس کے اثرات قسط:2آخری

 قسط: 2 آخری (3)دل پراثرات: دل انسانی جسم کا بڑا ہی عظیم اور حساس حصہ …

جواب دیجئے