Home » مجلہ دعوت اہل حدیث » 2017 » شمارہ اپریل » ایک ذکر سات فضائل

ایک ذکر سات فضائل

اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت مبارک اور اعلیٰ نیکی ہے، لیکن آج ہمارے معاشر ے میںکئی چیزیں اپنی طرف سے گھڑی گئی ہیں اور ان کے فضائل بیان کیے جارہے ہیں کہ اتنی دفعہ یہ پڑھ لو یہ ہوجائے گا ،اتناثواب ملے گا وغیرہ وغیرہ، ایسی ایسی باتیں جن کاذکر قرآن مجید سے ملتا ہے نہ حدیث سے۔
ذکر اور وظیفہ وہی کرناچاہئے جو شریعت سے ثابت ہو، جب اللہ کا ذکر سوچ سمجھ کر پورے شعورکے ساتھ کیاجائے تو اس کے کئی فائدے ہیں جن میں سےکچھ کاذکرذیل میں کیاجاتاہے۔
مومن ذکر کی لذت اور حلاوت محسوس کرتاہے۔
ذکر کرنے سے اداسی، مایوسی اورہر طرح کی بدسکونی ختم ہوجاتی ہے۔
ذکر کرنے سے انسان بہت سی اخلاقی بیماریوں سے نجات پالیتاہے۔
ذکر کی برکت سے زبان کی بےر اہ روی اور نگاہ کی آوارگی ختم ہوجاتی ہے۔
اور ذکرکرنے والاایک تربیت یافتہ، بااخلاق صالح مسلمان بن جاتاہے۔
آج کل ہمارے معاشرے میں بظاہر ذکر سے وابستہ لوگ جو شرک وبدعت اور خرافات میں ملوث نظرآتےہیں اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہوتی ہے کہ ان لوگوں کے پاس غیرشرعی رٹے رٹائے الفاظ اور تسبیح کے منکوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔
قارئین کرام!ہم آپ کے سامنے ایک اہم افضل ذکر’’رَضَیْتُ بِاللہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا‘‘ کے فضائل پیش خدمت کرنا چاہتےہیں۔
انسان ہونے کے ناطے ہر شخص کے پاس بے شمار نعمتیں ہیں مگر جو نعمتیں مسلمان کونصیب ہوتی ہیں غیرمسلم ان کاتصور تک نہیں کرسکتا۔
صحابہ کرام yکی زبان پر یہ مبارک کلمات تب ہی جاری ہوئے جب وہ اللہ رب العزت کو رب مان کر،محمدﷺ کو رسول مان کر اور اسلام کو دین مان کر راضی اور خوش ہوئے۔
قارئین کرام!ہم بھی ان نعمتوں کوپاکرخوش ہوجائیں اور انہی کے ہو کر رہ جائیںکیونکہ نبی کریم ﷺ نےایسے شخص کی بہت زیادہ عظمت بیان فرمائی ہے، ہم بھی صحابہ کرام yکے نقش قدم پر چلتے ہوئے پہلے ان تینوں باتوں پر راضی اور خوش ہوجائیں اورپھر ان مبارک کلمات کو اپنے روزمرہ معمولات میں شامل کرتے ہوئےاس اہم وظیفہ اور افضل ذکر ’’رَضَیْتُ بِاللہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا‘‘ کو اپنا معمول بنائیں جس کے فضائل بالترتیب ذکر کیے جاتے ہیں:
1جنت واجب ہوجائے گی
سیدناابوسعید خدریtسے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
’’من قال :’’رَضَیْتُ بِاللہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا‘‘وجبت لہ الجنۃ.
جس شخص نے کہا: میں اللہ کو رب مان کر اور اسلام کو دین مان کر اور محمدﷺ کو رسول مان کر راضی اور خوش ہوںتو اس شخص کے لئے جنت واجب ہوگئی۔
(ابوداؤد،الصلاۃ:1520سلسلۃ الصحیحۃ:334)
2ایمان کاذائقہ نصیب ہوگا
رسول اللہ نے فرمایا:
’’ذاق طعم الایمان من رَضِیَ بِاللہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا‘‘(صحیح مسلم:151)
اس شخص نے ایمان کاذائقہ چکھ لیا جو اللہ کو رب مان کر اور اسلام کو دین مان کر اور محمدﷺ کو رسول مان کر راضی اور خوش ہوگیا۔
3گناہوں سے پاک کردیاجائے گا
رسول اللہ نے فرمایا:کہ اذان کے وقت یہ کلما ت پڑھنے والےکو گناہوں سے پاک کردیاجاتاہے۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص tسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
من قال حین یسمع الموذن اشھد ان لاالٰہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ رَضَیْتُ بِاللہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا‘‘
جس شخص نے موذن کی آواز سن کر کہا:میں گواہی دیتاہوں اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ اکیلا ہے اور اس کاکوئی شریک نہیں اور بے شک محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں میںاللہ کو رب مان کر اور اسلام کو دین مان کر اور محمدﷺ کو رسول مان کر راضی ہوں۔
(صحیح مسلم:851)
4قبر میں کامیابی
متواتر احادیث صحیحہ کےمطابق قبرآخرت کی منازل میں سے سے سب سے پہلی منزل ہے جو قبر کے امتحان میں کامیاب ہوگیا وہ آخرت میں بھی کامیاب ہوگیا، اور قبر میں بھی کامیاب وہی ہوگا جو ان تینوں باتوں پر ایمان لاتے ہوئے راضی اور خوش ہوگا کیونکہ قبر میں سب سے پہلے انہی تین چیزوں کےبارے میں پوچھاجائے گا اور جوان تین باتوں:’’رَضَیْتُ بِاللہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا‘‘پرراضی ہوگا وہ شخص ہی قبر کے تینوں سوالات :من ربک، ما دینک اور من نبیک کا جواب دے پائے گا۔
5نبی کریم ﷺ کی خوشی
سیدناانس tبیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور اپنےمنبر پرجلوہ افروز ہوئے آپﷺ نے قیامت کاذکر شروع کیا اور روز قیامت رونماہونے والے بڑے بڑے حادثات کوبیان فرمایا۔ اندازِ بیان اور نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے عظیم الفاظ کااثرایسا تھا کہ صحابہ کرام کی داڑھیاں آنسوؤں سے تر ہوگئیں۔
آپﷺ نے صحابہ سے فرمایا:مجھ سے جو پوچھنا چاہتے ہوپوچھ لو صحابہ کرام نے مختلف سوالات کیے اور بعض غیراہم سوالات بھی ہوگئے جن پر آپﷺ غصے میں آگئے ،آپﷺ کی یہ کیفیت دیکھ کر سیدنا عمرفاروقtفوراً دوزانوں ہوکر بیٹھ گئے اور آپtنے فرمایا:
’’رَضَیْنَا بِاللہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا‘‘
آپﷺ نے عمرفاروقtسے یہ پاکیزہ کلمات سنے تو آپﷺ کاغصہ رضامندی میں تبدیل ہوگیا۔
6اللہ تعالیٰ قیامت کے دن خوش کردیگا
دنیا میں ان نعمتوں کوپاکرخوش ہونابہت بڑے اعزاز کی بات ہے اور یہ اعزاز جس کوحاصل ہوگا وہ قیامت کے دن خوش کردیا جائے گا۔
رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
ما من مسلم یقول حین یمسی وحین یصبح ثلاث مرات:رَضَیْتُ بِاللہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا الا کان حقا علی اللہ ان یرضیہ یوم القیامۃ.
جومسلمان صبح وشام تین مرتبہ یہ الفاظ کہتاہے :میں اللہ کو رب مان کر اور اسلام کو دین مان کر اور محمدﷺ کو نبی مان کر راضی اورخوش ہوں تو اللہ تعالیٰ پر لازم ہے قیامت کے دن کہ ایسے شخص کو خوش وراضی کردے۔(مسنداحمد 196/38ح:23112صحیح لغیرہ)
7جنت میں داخلہ آپﷺ کےساتھ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
من قال اذا اصبح رَضَیْتُ بِاللہِ رَبًّا وَبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا فانا الزعیم لاخذن بیدہ حتی ادخلہ الجنۃ.
جس نے صبح کے وقت کہا:میں اللہ کو رب مان کر اور اسلام کو دین مان کر اور محمدﷺ کو رسول مان کر راضی ہوں،میں ضامن ہوں البتہ ضرور میں اس کو اپنے ہاتھ سے پکڑوںحتی کہ اللہ کی جنت میں داخل کردوں گا۔(المعجم الکبیر،امام طبرانی:838سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ:421)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ذکر کوسمجھنے اس پر عمل کرنے اور اسے اپنی زندگی کے روز مرہ معمولات میں شامل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین

About حافظ محمد راشد میؤ

جواب دیجئے